اتوار 15 فروری 2026 - 05:00
عورت اور رمضان: روحانیت کا سنہرا موقع

حوزہ/ اہلِ بیتؑ کی نظر میں عورت کی اجتماعی دعا ایک بافضیلت عمل ہے، خصوصاً ماہِ رمضان میں جب رحمتِ الٰہی جوش میں ہوتی ہے شرط یہ ہے کہ اجتماع خلوص نیت، حجاب، نظم اور صحیح عقیدے کے ساتھ ہو ایسی دعا ایسی نششت نہ صرف انفرادی نجات کا ذریعہ بنتی ہے بلکہ پورے معاشرے میں ایمان اخوت اور اصلاح کا پیغام عام کرتی ہے

تحریر: فاطمہ دانش جونپور معلمہ۔ جامعہ بنت الہدی جونپور

حوزہ نیوز ایجنسی I رمضان صرف بھوک اور پیاس کا نام نہیں، بلکہ یہ انسان کی باطنی تعمیر اور روحانی بیداری کا مہینہ ہے اگر سوال کیا جائے کہ ایک عورت کے لیے اس مہینے میں اللہ کے نزدیک سب سے پسندیدہ عمل کیا ہے؟ تو اس کا جواب کسی ایک ظاہری عبادت میں محدود نہیں بلکہ ایک گہری فکری اصول میں پوشیدہ ہے اور وہ ہے تقویٰ اور اخلاص کے ساتھ زندگی گزارنا۔

قرآن مجید نے روزے کا مقصد واضح الفاظ میں بیان کیا

لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ (تاکہ تم متقی بن جاؤ)

یعنی رمضان کا اصل مقصد تقویٰ ہے، اور تقویٰ دل کی کیفیت کا نام ہے، صرف عمل کی ظاہری شکل کا نہیں

1 عورت اور تقویٰ کی حقیقت

عورت گھر کی بنیاد ہے اگر اس کا دل بیدار ہو جائے تو پورا گھر بیدار ہو جاتا ہے اگر اس کی نیت خالص ہو جائے تو معمولی کام بھی عبادت بن جاتے ہیں

وہ سحری تیار کر رہی ہو، بچوں کو جگا رہی ہو، افطار بنا رہی ہو اگر اس کی نیت اللہ کی رضا ہو تو یہی عمل سب سے محبوب عبادت بن جاتا ہے

رمضان میں عورت کا سب سے عظیم مقام یہ ہے کہ وہ ہر کام کو قصدِ قربت کے ساتھ انجام دے۔

2. زبان اور دل کا روزہ

اکثر ہم روزہ کو صرف کھانے پینے تک محدود کر دیتے ہیں، جبکہ اصل روزہ

آنکھ کا روزہ ہے حرام نگاہوں سے حفاظت کرے

زبان کا روزہ غیبت، شکوہ شکایت سخت کلامی سے پرہیز کررے

دل کا روزہ حسد، کینہ، غرور سے دوری اختیار کرنا

ایک عورت اگر رمضان میں اپنی زبان اور دل کی حفاظت کر لے تو یہ اللہ کے نزدیک بہت محبوب عمل ہے۔

3 دعا کی طاقت

رمضان دعا کا مہینہ ہے اور عورت کی دعا میں عجب تاثیر ہوتی ہے

ایک ماں جب اپنے بچوں کے لیے سحر کے وقت دعا کرتی ہے

ایک بیوی جب اپنے شوہر کی ہدایت اور کامیابی کے لیے دعا کرتی ہے

ایک مؤمنہ جب ایک عورت تمام مومنین کے لیے دعا کرتی ہے

تو یہ صرف الفاظ نہیں ہوتے، بلکہ عرش کو ہلا دینے والی صدائیں ہوتی ہیں

4 گھر کو روحانیت کا مرکز بنانا

رمضان میں عورت چاہے تو اپنے گھر کو چھوٹی سی عبادت گاہ بنا سکتی ہے

روزانہ قرآن کی تلاوت

بچوں کے ساتھ دعا

افطار سے پہلے چند لمحے ذکر

اہلِ خانہ کو اخلاق کی نصیحت

یہ تربیت اللہ کے نزدیک بہت عظیم صدقہ جاریہ ہے

5 صبر سب سے اونچا مقام

رمضان میں تھکن کام کا دباؤ، جسمانی کمزوری یہ سب عورت کے لیے آزمائش ہوتے ہیں لیکن اگر وہ صبر کرے اور رضا کے ساتھ یہ سب برداشت کرے تو یہی صبر اس کا سب سے پسندیدہ عمل بن جاتا ہے

قرآن کہتا ہے ؛ إِنَّمَا يُوَفَّى الصَّابِرُونَ أَجْرَهُم بِغَيْرِ حِسَابٍ

صبر کرنے والوں کو بے حساب اجر دیا جائے گا

ہمارے نظریہ سے رمضان میں عورت کا سب سے پسندیدہ عمل کوئی ایک مخصوص عبادت نہیں، بلکہ یہ ہے کہ

عورت اپنے دل کو پاک کرے

ہر کام کو اللہ کے لیے انجام دے

زبان اور نگاہ کی حفاظت کرے

گھر کو ایمان کا مرکز بنائے

صبر اور دعا کو اپنا شعار بنائے

رمضان عورت کو یہ موقع دیتا ہے کہ وہ صرف عبادت گزار نہ بنے، بلکہ روحانی معمار بن جائے اپنے گھر کی اپنی نسل کی اور اپنی آخرت کی

ہم یہاں پررمضان اور خدا کے نزدیک عورت کے پسندیدہ عمل کے علاوہ اجتماعی دعا فقہی احکامِ تلاوت قرآن اور ماہِ رمضان میں اہلِ بیتؑ کی نظر سے منقعد ہو مختصراًبیان کررہے ہیں

ماہِ رمضان رحمت، مغفرت اور اللہ کا مہینہ ہے۔ اس مہینے میں اجتماعی دعا (گروہی دعا)ایمان کی تجدید، دلوں کی پاکیزگی اور معاشرتی وحدت کا بہترین ذریعہ بنتی ہے۔ اہلِ بیتؑ کی تعلیمات کی روشنی میں عورتوں کی اجتماعی دعا نہ صرف جائز بلکہ باعثِ اجر و برکت ہے، بشرطیکہ شرعی آداب اور حدود کا لحاظ رکھا جائے۔

1 قرآنِ مجید کی روشنی میں اجتماعی دعا

قرآن کریم میں دعا کو بندگی کا جوہر قرار دیا گیا ہے:

“وَقَالَ رَبُّكُمُ ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ” (غافر: 60)

تمہارا رب فرماتا ہے: مجھے پکارو، میں تمہاری دعا قبول کروں گا۔

“وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّي فَإِنِّي قَرِيبٌ” (بقرہ: 186)

جب میرے بندے میرے بارے میں پوچھیں تو (کہہ دو) میں قریب ہوں۔

“وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللّٰهِ جَمِيعًا” (آلِ عمران: 103)

اللہ کی رسی کو سب مل کر مضبوطی سے تھام لو۔

ان آیات سے واضح ہوتا ہےکہ دعا انفرادی بھی مطلوب ہے اور اجتماعی بھی؛ کیونکہ “جمیعاً” کی روح وحدت اور باہمی تعاون کو ظاہر کرتی ہے۔

2 اہلِ بیتؑ کی سیرت میں اجتماعی دعا شامل ہے

کیونکہ اہلِ بیتؑ نے دعا کو تربیتِ نفس اور معاشرے کی اصلاح کا ذریعہ بتایا ہے۔

حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا اجتماعی دعا برکت ہے مؤمنین کامل بیٹھ کر ذکر و دعا کرنا دلوں کو جوڑتا ہے۔

امام صادق علیہ السلام سے منقول ہے جب مؤمنین ایک جگہ جمع ہو کر اللہ کو یاد کرتے ہیں تو فرشتے ان پر سایہ فگن ہوتے ہیں اور رحمت نازل ہوتی ہےامام زین العابدین علیہ السلام

صحیفہ سجادیہ میں بیان کیا کہ اجتماع اجتماعی دعاؤں کا خزانہ ہے جس میں امت ہمسایوں اور اہلِ ایمان کے لیے دعائیں شامل ہیں۔

اہلِ بیتؑ کی تعلیم یہ ہے کہ عورت ہو یا مرد، اگر تقویٰ اور حیا کے ساتھ اللہ کی طرف رجوع کرے تو اس کی دعا بارگاہِ الٰہی میں مقبول ہے

3 عورت کی اجتماعی دعا کے شرعی و اخلاقی آداب یہ ہے کہ: حجاب اور عفت اور مکمل پردے اور شرعی حدود کے ساتھ ہو۔ خلط ملط سے پرہیز، مرد و زن مکس نہ ہو اگر مسجد یا حسینیہ میں ہو تو علیحدہ انتظام ہو، ریاکاری اور دیکھاوے سے پرہیز نیت خالص ہو، نمائش یا شہرت کیلے نہ ہو

ماہِ رمضان میں اجتماعی دعا کیسے منعقد کی جائے؟

تیاری اور نظم

پاکیزہ اور پُرسکون جگہ گھر، مسجد، امام بارگاہ کا انتخاب

مختصر درسِ قرآن اور فقہی مسائل

اجتماعی ذکر استغفار، صلوات

مخصوص دعا مثلاً دعائے افتتاح یا صحیفہ سجادیہ سے منتخب دعا پڑھا جائے

تربیتی پہلو

نوجوان لڑکیوں کو شامل کر کے انہیں دعا کے معانی سمجھائے جائیں،گھریلو سطح پر بچوں کو بھی مختصر شرکت کا موقع دیا جائے تاکہ روحانی ماحول قائم ہو۔

اجتماعی دعا کے ثمرات؛ روحانی پاکیزگی، دل نرم ہوتا اور گناہوں سے توبہ کی توفیق ملتی ہے۔

خاندانی استحکام؛ گھر میں سکون اور باہمی محبت بڑھتی ہے۔

سماجی وحدت؛ عورتیں ایک دوسرے کے مسائل سے آگاہ ہو کر تعاون کرتی ہیں۔

قبولیت کی امید؛ حدیث کے مطابق جماعت کی دعا میں قبولیت کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔

اہلِ بیتؑ کی نظر میں عورت کی اجتماعی دعا ایک بافضیلت عمل ہے، خصوصاً ماہِ رمضان میں جب رحمتِ الٰہی جوش میں ہوتی ہے شرط یہ ہے کہ اجتماع خلوص نیت، حجاب، نظم اور صحیح عقیدے کے ساتھ ہو ایسی دعا ایسی نششت نہ صرف انفرادی نجات کا ذریعہ بنتی ہے بلکہ پورے معاشرے میں ایمان اخوت اور اصلاح کا پیغام عام کرتی ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha